دنیا
پاکستان کی علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے پر "اسرائیل" کی شدید مذمت
شام کے فضائی اڈے پر حملے کے بعد حکومت پاکستان نے "اسرائیلی غاصب افواج" کی شدید مذمت کا اعادہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے بدھ کے روز ایک انتہائی سخت بیان جاری کیا گیا،
جس میں صیہونی انتہا پسند غاصب افواج کی جانب سے شمالی شام کے شہر ادلب کے قریب ایک متروکہ فضائی اڈے پر بلااشتعال حملوں کی مذمت کی گئی۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ یہ حملے "اسرائیلی غاصب افواج کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی مسلسل ورزیوں" کا حصہ ہیں، جن سے "علاقائی امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔" ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ "اسرائیلی غاصب افواج کی جانب سے عالمی قوانین کی پامالیوں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے اقدامات پر اس کا محاسبہ کرے۔"
فلسطین میں غاصب افواج کے قائد بنیامین ملیکووسکی (المعروف بنیامین نیتن یاہو)، جو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو مطلوب ہیں، نے ان حملوں کو "ضروری" قرار دے کر ان کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔ غاصب افواج کو مقبوضہ فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں نسل کشی کی حالیہ مہم پر بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں بھی تحقیقات کا سامنا ہے۔ اس مقدمے کو متعدد ماہرینِ نسل کشی کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔
شام میں تازہ ترین حملوں میں ابو الظہور ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا، جو 2024 میں شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے زیادہ تر غیر فعال ہے۔ ملیکووسکی نے دعویٰ کیا کہ ترک افواج شامی اور ترکیہ حکومتوں کے درمیان طے شدہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس بیس پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ سابق صدر بشار الاسد کے زوال اور محمد الشرع کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے شام کے بڑے حصے پر مرکزی حکومت کا کنٹرول انتہائی کمزور ہے، جنہیں کم از کم جزوی طور پر ترکیہ حکومت کا حامی سمجھا جاتا ہے۔





