ماحول
پاکستان کے زرعی خطے میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گرنے لگی
پاکستان کے زرعی خطے میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی سے فصلوں کی پیداوار اور غذائی تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ٹیوب ویلوں کے ذریعے پانی کے بے تحاشا انخلا اور روایتی آبپاشی سے آبی ذخائر قدرتی ریچارج کی رفتار سے زیادہ تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
غیر منظم طریقے سے پانی نکالنے اور بارشوں کے بدلتے پیٹرن کے باعث پاکستان کے زرعی مراکز میں زیرِ زمین پانی کی سطح تشویشناک حد تک گر رہی ہے۔ ہزاروں ڈیزل اور شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے مسلسل پانی کھینچ رہے ہیں، جس سے اہم زرعی خطوں میں زیرِ زمین آبی ذخائر قدرتی طور پر دوبارہ بھرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
”زیرِ زمین پانی میں مسلسل کمی سے ہماری زرعی سپلائی چین کے بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہیں، جس سے آنے والی فصلوں کی کاشت کے لیے پانی کی سنگین قلت پیدا ہو سکتی ہے،“ سینئر ماہرِ ہائیڈرولوجی اور وسائلِ آب کے ماہر ڈاکٹر حارث سومرو نے بتایا۔
روایتی غرقابی آبپاشی کے طریقوں اور زیادہ پانی مانگنے والی نقد آور فصلوں کی وسیع پیمانے پر کاشت نے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو تیزی سے ختم کر دیا ہے۔ چھوٹے کسان بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود مزید گہرے کنویں کھودنے پر مجبور ہیں، جس سے جہاں پیداواری اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں زرعی علاقوں میں زمین دھنسنے کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے، زرعی مشاورت کے بورڈز اور ماحولیاتی تنظیمیں مؤثر ڈرپ آبپاشی، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے ڈھانچے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ فصلوں کی باری باری کاشت کے ماڈلز اپنانے پر زور دے رہی ہیں۔
حکومتی واٹر اتھارٹیز اگلی سہ ماہی سے تجارتی ٹیوب ویلوں کے لیے سخت لائسنسنگ فریم ورک متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ جدید آبپاشی ٹیکنالوجی کے لیے سبسیڈی دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔



