ٹیکنالوجی

خشک سالی کے شکار علاقوں میں سمارٹ آبپاشی سسٹمز کے انقلابی نتائج

آئی او ٹی سے لیس سمارٹ آبپاشی نیٹ ورکس بنجر علاقوں میں مٹی کی نمی کو بہتر بنا کر اور پانی کا ضیاع کم کر کے زراعت کو بدل رہے ہیں۔ یہ خودکار سسٹمز موسمی اعداد و شمار کے مطابق پانی فراہم کرتے ہیں، جس سے فصلوں کی پیداوار بڑھتی ہے اور زیر زمین پانی کی بچت ہوتی ہے۔

خشک سالی کے شکار علاقوں میں سمارٹ آبپاشی سسٹمز کے انقلابی نتائجتصویر: QOM

خشک سالی سے متاثرہ زرعی علاقوں میں، کسان پانی کے ختم ہوتے وسائل کو بچانے اور فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے آئی او ٹی پر مبنی سمارٹ آبپاشی سسٹمز تیزی سے اپنا رہے ہیں۔ روایتی سیلابی آبپاشی کے بجائے خودکار ڈرپ نیٹ ورکس اور مٹی کے سینسرز استعمال کر کے زرعی برادریاں پودوں کی جڑوں تک پہنچنے والے پانی کے ایک ایک قطرے کا بہترین استعمال یقینی بنا رہی ہیں۔

“جدید آبپاشی ٹیکنالوجی کسانوں کو مٹی کی نمی اور موسمی تبدیلیوں کی فوری معلومات فراہم کرتی ہے، جس سے زراعت میں پانی کے استعمال میں 40 فیصد سے زائد کمی ممکن ہو جاتی ہے،” سینئر ایگری ٹیک اور واٹر سسٹمز ماہر ڈاکٹر عرفان ملک نے بتایا۔

یہ سمارٹ سسٹمز مقامی موسمی پیشگوئی، ہوا میں نمی اور فصل کی ضرورت کا تجزیہ کر کے خودکار طریقے سے پانی کی متوازن مقدار فراہم کرتے ہیں۔ پانی کا ضیاع روکنے کے علاوہ، اس طریقے سے مٹی کی زرخیزی برقرار رہتی ہے اور زمین کا کٹاؤ رکتا ہے، جس کے نتیجے میں فصلیں بہتر ہوتی ہیں اور پمپنگ سسٹمز کے ایندھن کے اخراجات میں بھی کمی آتی ہے۔

https://images.unsplash.com/photo-1586771107445-d3ca888129ff?auto=format&fit=crop&w=1200&q=80

اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال کو فروغ دینے کے لیے، مقامی زرعی تعاون یافتہ تنظیمیں اور ٹیک انکیوبیٹرز متاثرہ زرعی اضلاع کے چھوٹے کسانوں کے لیے عملی تکنیکی تربیت کی نشستیں منعقد کر رہے ہیں۔

علاقائی زرعی ترقی کے شعبے اگلی سہ ماہی کے آغاز سے رعایتی سمارٹ آبپاشی آلات کی گرانٹس جاری کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

اگلا کیا پڑھیں

سب دیکھیں

20 اگست، 2026

20 اگست، 2026