صحت

شدید گرمی صحت کی ہنگامی صورتحال ہے: پاکستانی شہر اب کیا اقدامات کر سکتے ہیں

عالمی ادارہ صحت کی نئی ہدایات کے مطابق شدید گرمی دل، گردوں اور طبی خدمات پر غیر معمولی دباؤ ڈالتی ہے؛ اور پاکستان کے شہر شدید گرمی کی اگلی لہر سے قبل کون سے عملی اقدامات کر سکتے ہیں۔

شدید گرمی صحت کی ہنگامی صورتحال ہے: پاکستانی شہر اب کیا اقدامات کر سکتے ہیں
شدید گرمی صحت کی ہنگامی صورتحال ہے: پاکستانی شہر اب کیا اقدامات کر سکتے ہیںتصویر: QOM

شدید گرمی اب صرف موسم کی خبر نہیں رہی بلکہ یہ صحت عامہ کی ایک ہنگامی صورتحال ہے، جو انسانی جسم کو خود کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت سے محروم کر سکتی ہے، دائمی بیماریوں کو شدید تر بنا سکتی ہے اور ہسپتالوں، بجلی کے نظام اور پانی کی فراہمی پر اچانک دباؤ ڈال سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی گرمی اور صحت سے متعلق جدید ترین ہدایات کے مطابق، خطرہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب غیر معمولی گرم دنوں کے بعد راتیں بھی گرم رہیں۔ رات کے وقت درجہ حرارت میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے جسم کو بحال ہونے کا موقع کم ملتا ہے۔ زیادہ نمی، ہوا کی کم رفتاری، براہ راست دھوپ، بھاری کپڑے اور مشقت والا کام اس دباؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خواہ صرف ہوا کا درجہ حرارت بظاہر اتنا زیادہ دکھائی نہ بھی دے۔

گرمی جسم کو کیسے نقصان پہنچاتی ہے

جسم معمول کے مطابق پسینے اور جلد کی طرف خون کے بہاؤ کو بڑھا کر حرارت خارج کرتا ہے۔ شدید گرمی اور خاص طور پر زیادہ نمی کی صورت میں، پسینہ مؤثر طریقے سے بھاپ بن کر نہیں اڑتا۔ اس دوران دل جلد کی طرف خون منتقل کرنے کے لیے زیادہ کام کرتا ہے، جس سے جسم کا اندرونی درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے۔

یہ دباؤ پانی کی کمی، چکر آنے، عضلاتی کھچاؤ اور شدید تھکاوٹ (ہیٹ ایگزاسٹن) کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے دل، سانس، گردوں، ذیابیطس اور نفسیاتی صحت سے متعلق بیماریاں بھی بگڑ سکتی ہیں۔ ہیٹ اسٹروک— جس کی علامات میں انتہائی تیز بخار، الجھن، دورے یا بے ہوشی شامل ہے— ایک طبی ہنگامی حالت ہے۔

یہ خطرہ تمام افراد کے لیے یکساں نہیں ہوتا۔ معمر افراد، شیر خوار بچے، حاملہ خواتین، دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد، اکیلے رہنے والے اور ٹھنڈک کے مناسب وسائل سے محروم افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ کھلے آسمان تلے کام کرنے والے، بشمول تعمیراتی مزدور، کسان، ڈیلیوری رائڈرز اور ٹریفک پولیس اہلکار، اضافی خطرے کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ جسمانی مشقت سے حرارت پیدا ہوتی ہے اور ماحول اسے خارج کرنا دشوار بنا دیتا ہے۔

شہروں کو منصوبے کی ضرورت کیوں ہے

عالمی ادارہ صحت ایسے 'ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلانز' کی سفارش کرتا ہے جو موسمیاتی پیشگوئیوں کو فوری اقدامات سے جوڑتے ہیں۔ انتباہ جاری ہوتے ہی واضح ذمہ داریاں متعین ہونی چاہئیں: محکمہ صحت ہسپتالوں کو الرٹ کرے، مقامی حکام ٹھنڈے مقامات کی نشاندہی کریں، مالکان کھلے میں مشقت کے کام کے اوقات تبدیل کریں اور کمیونٹی نیٹ ورکس شدید خطرے کا شکار افراد کی دیکھ بھال یقینی بنائیں۔

پاکستان کے گنجان آباد شہروں کے لیے تیاری کا مطلب گرمی کو انفراسٹرکچر کے مسئلے کے طور پر دیکھنا بھی ہے۔ درخت لگانا، پبلک ٹرانسپورٹ اسٹاپس پر سائے کا انتظام، چھتوں کی عکاس کوٹنگ، ہوا کی آمدورفت، بجلی کی بلاتعطل فراہمی اور پینے کے صاف پانی تک رسائی گرمی کی شدت کو کم کر سکتی ہے۔ طبی مراکز کو بیک اپ پاور اور ایسے عملے کے منصوبوں کی ضرورت ہے جو گرمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے اچانک اضافے سے نمٹ سکیں۔

درجہ حرارت عروج پر پہنچنے سے پہلے عوام کے لیے رہنمائی کے پیغامات سادہ اور بار بار نشر کیے جانے چاہئیں۔ شہری سرکاری پیشگوئیوں پر نظر رکھیں، گرم ترین اوقات میں سخت مشقت سے گریز کریں، سائے میں رہیں، ہلکے اور کشادہ کپڑے پہنیں اور باقاعدگی سے پانی پیئیں۔ دن کے وقت براہ راست دھوپ کو روک کر اور رات کو جب باہر کا درجہ حرارت کم ہو تو ٹھنڈی ہوا اندر آنے دے کر گھروں کو ٹھنڈا رکھا جا سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ شدید درجہ حرارت میں بجلی کے پنکھوں کو مکمل حل نہ سمجھا جائے۔ جب ہوا جسمانی درجہ حرارت سے زیادہ گرم ہو تو پنکھا گرمی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے، الا یہ کہ اسے ٹھنڈک کے دیگر ذرائع کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ مختلف طبی مسائل میں مبتلا افراد اپنے ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کریں، خاص طور پر جہاں پانی کے استعمال یا ادویات کی مقدار میں تبدیلی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

ہنگامی صورتحال میں کیا کریں

شدید تھکاوٹ (ہیٹ ایگزاسٹن) کی علامات میں شدید پسینہ، کمزوری، سر درد، متلی، چکر آنا اور بے ہوشی شامل ہیں۔ متاثرہ شخص کو کسی ٹھنڈی جگہ منتقل کریں، کپڑے ڈھیلے کریں، جلد کو ٹھنڈا کریں اور اگر وہ ہوش میں ہو اور پی سکتا ہو تو پانی دیں۔

الجھن، گرم اور خشک جلد، دورے یا بے ہوشی ہیٹ اسٹروک کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ فوری طور پر ہنگامی طبی امداد کو کال کریں اور امداد پہنچنے تک مریض کو جلد از جلد ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں۔ علامات کے خود بخود ٹھیک ہونے کا انتظار نہ کریں۔

طبی سائنس سے واضح ہے کہ گرمی سے پیدا ہونے والی متعدد بیماریوں اور اموات سے بچاؤ ممکن ہے۔ سب سے مؤثر طریقہ کار ذاتی احتیاطی تدابیر کے ساتھ بروقت انتباہ، مزدوروں کا تحفظ، ہسپتالوں کی تیاری اور ایسے شہروں کی تعمیر کو یکجا کرنا ہے جو شدید گرمی کے بڑھتے واقعات میں محفوظ رہ سکیں۔

اگلا کیا پڑھیں

سب دیکھیں